سجی ایک پکوان ہے جو زیادہ تر بلوچستان میں پکایا جاتا ہے۔ اس کا رواج روایتی طور پر بلوچستان میں ہوتا ہے۔ سجی بلوچ ثقافت کا ایک اہم پکوان ہے۔ سجّی بھیڑ یا بکرے کے گوشت سے تیار کی جاتی ہے اور اس کے لیے فربہ جانوروں کا انتخاب کیا جاتا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جانور جتنا فربہ ہوتا ہے اس کی سجی بھی اتنی لذیز ہوتی ہے۔
اس ڈش کی تیاری کے لیے ران، دستی اور پٹھ (کمر کے پچھلے حصے) کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور گوشت کو نمک یا حسب ذائقہ مصالحہ لگانے کے بعد لوہے کی سلاخ میں پرو کر تندور کے اندر رکھا جاتا ہے جہاں لکڑی جلا کر انگارے سلگا ئے ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کیکر کی خشک لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔ گوشت کو تندور کے اندر رکھ کر تندور کا منہ اچھی طرح بند کر دیا جاتا ہے ۔
اس کی تیاری میں تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں۔ سجی کے گوشت سے نکلنے والے پانی سے تندور کے اندر ہی چاول پکائے جاتے ہیں جو بے حد لذیذ ہوتے ہیں۔

اگر پکانے والا کاریگر تجربہ کار نہ ہو اور موسم کی شدت اور آگ کی تپش کا اندازہ نہ لگا پائے تو یہ بنتے ہوئے اکثر خراب بھی ہو جاتی ہے۔ یا گوشت جل جاتا ہے یا پھر کچا رہ جاتا ہے۔

اگر تندور میں سجی بننے کے دوارن کہیں سے ہوا چلی جائے تو سارا گوشت جل جائے گا اس لیے اس کے پکانے میں یہ احتیاط کازمی رکھی جائے کہ تندور کو ہوا بند کیا جائے