اِدھر ہم نے “نیلم” کا قصد کیا اُدھر اہلیہ محترمہ کے ذہن میں خدشات سر اٹھانے لگے۔۔۔ کہ ہو نا ہو یہ “نیلم” ضرور کوئی “فریقِ مخالف” ہو گی۔۔۔ ہم نے بھی دراڑ آنے سے پیشتر ہتھیار ڈال دیئے اور “بیچلرپارٹی” کو “فیملی ایونٹ” بنا دیا۔۔۔

یوں ہم لاہور سے براستہ موٹروے اسلام آباد پہنچے اور پھر ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے، “مری کو بائے پاس کرکے”، مظفر آباد جا پہنچے۔ یہاں سے Scom کی سم میں بیلنس ڈلوایا اور “وادی نیلم” کی جانب لپکے۔۔۔ اور پھر پے در پے چیک پوسٹوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔۔ “بارڈرایریا” کی نزاکت کا احساس دلا دلا کر ہم سے کم و بیش 7 مقامات پر اپنے کوائف درج کرائے گئے۔۔۔
شاردہ، نیلم ویلی کا ایک خوبصورت علاقہ ہے. بلند و بالا پہاڑ، سرسبز جنگلات اور شاہکار آبشاروں کی بدولت یہ جگہ جنت کا عکس محسوس ہوتی ہے. یہاں پہنچ کر دریائے نیلم اپنا سینہ چوڑا کرکے گزرتا ہے اور اس کی گہرائی بھی زیادہ ہو جاتی ہے.

” جب وسعت اور گہرائی زیادہ ہو جائے تو روانی باوقار ہو جاتی ہے…”

مقامی لوگوں نے اس کے کشادہ سینے کا فائدہ اٹھا کر یہاں بوٹنگ کا انتظام کر ڈالا ہے. پانی کی لہروں پر تیز رفتار بوٹ کو اڑانے کا لطف کوئی ہم سے پوچھے… یہ ایک مزےدار کام تھا… دریائے نیلم نے کئی گوہر نایاب اپنی وسعتوں میں گم کئے ہیں… لیکن مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ ایڈوینچر کا بھی اپنا ہی مزہ تھا.

نیلم ویلی کے درمیان سے جو سڑک گزر رہی ہے اس کی انفرادیت یہ ہے کہ بعض جگہوں پر سڑک یوں LOC کے ساتھ سے گزرتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آبادی دریا کے اُس پار دیکھائی دے رہی ہوتی ہے۔ “کیرن “میں تو یہ فاصلہ بالکل دریا جتنا رہ جاتا ہے۔ آپ چاہیں تو آواز دیکر بھی پار والوں سے بات کر سکتے ہیں۔ (وہ الگ بات کہ بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی)

ہم نے جس رات کیرن میں قیام کیا، وہ” شب برات “تھی۔ مقبوضہ کشمیر کی سائیڈ سے ایک مسجد سے پہلے نعت اور پھر بیان کی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔ کشمیر میں شب برات کے موقع پر ٹین ڈبے میں لکڑیاں جلا کر اسے رسی سے باندھ کر گھمانے کی رسم ہے۔۔۔ بچے اور جوان اس شغل میں مصروف نظر آئے۔

ہمارا ہدف “اڑنگ کیل” تھا۔۔۔ ہم نے پہلی رات “شاردہ” میں قیام کیاتھا۔” علی الصبح” اٹھ کر ناشتہ کیا اور11بجے کیل کا رخ کیا۔ راستے میں کیل سے زرا پہلے سڑک سے ہٹ کر دریا پرایک پل بنا ہوا تھا۔ جہاں فوجی جوان بھی تعینات تھے۔۔۔ ہم گاڑی سے اتر کر اس پل پر پہنچے۔ گمان یہی تھا کہ پہلے کی طرح یہ بھی فوٹو وغیرہ سے منع کر دیں گے۔ لیکن خلاف توقع ان کا رویہ دوستانہ تھا انہوں نے تصاویر کھنچنے کی اجازت بھی دی اور دریا پار ایک خوبصورت پہاڑی چشمے پر جانے بھی دیا۔

یوں رکتے رکاتے خوبصورت مناظر کی تصاویر کھینچتے ہم کیل پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔اس وقت دوپہر کے 4 بج چکے تھے۔ اب ہم نے “اڑنگ کیل” کا رخ کیا جو ایک گھنٹے کی ہائی کنگ پر تھا۔

جب آپ کیل سے اڑنگ کیل کا رخ کرتے ہیں تو ابتداء میں آرمی کے جوان آپ سے آئی ڈی کارڈ جمع کر لیتے ہیں۔ پھر آپ کو ڈولی میں بٹھا کر دریا پار کروایا جاتا ہے۔ دریا پار آنے جانے کا کرایہ 100 روپے فی سواری ہے۔ یہ ڈولی بھی کسی ایڈونچر سے کم نہیں۔ دریا سے کم از کم بھی 2سو فٹ بلندی پر آپ ڈولی میں سوار ہوتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوا آپ کے جسم سے ٹکرا رہی ہوتی ہے۔ دریا پار کرنے کے بعد آپ خود کو کسی ہیرو سے کم نہیں سمجھتے۔

جہاں ڈولی رُکتی ہے وہیں سے ہائیکنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر آپ تھوڑے سے سست ہیں تو بھی 30-40 منٹ میں وہاں سے چڑھ کر اڑنگ کیل پہنچ جائیں گے۔ لہذا کسی گائیڈ کے بہکاوے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اپنا سفر آرام آرام سے جاری رکھیں۔

#اڑنگ_کیل
اوپر پہنچ کر ایک بالکل نئی دنیا آپ کی منتظر ہو گی۔ آپ خود کو زمانہء قدیم کی کسی فلم کا حصہ سمجھنے لگیں گے۔ یوں جیسے آپ کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر1850ء میں جا پہنچے ہوں۔ قدیم انداز سے بنے ہوئے لکڑی کے گھر۔۔۔ وسیع چراہ گاہ ۔۔۔ جس کے آخری کنارے پر گھنا جنگل ۔۔۔ اڑنگ کیل پہاڑ کی ٹاپ نہیں ہے۔ یہ سیڑھی کے ایک سٹیپ کی مانند ہموار خطہ پر بنا ہوا گاؤں ہے۔ جو یکم مئی کو بھی برف سے پُر تھا۔ اس سے آگے بھی پہاڑ کی بلندی ہے لیکن پاک آرمی کے جوان آپ کو آگے جانے نہیں دیں گےکیونکہ زیادہ مہم جوئی آپ کو LOC پار کروا سکتی ہے۔ نتیجتاً انڈین آرمی کی گولی یا پھر بھارت کے عقوبت خانے آپ کو مشکل میں ڈال دیں گے۔

نیلم ویلی کے سفر کے لیے کچھ اہم نکات ذہن میں رکھئے گا۔

۔ کم سے کم 7 مقامات پر آپ سے شناختی کارڈ طلب کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر گاڑی کے ڈرائیور کا آئی ڈی کارڈ ہی مانگا جاتا ہے۔ وہی اتر کر باقی افراد کا اندراج کراتا ہے۔
2۔ مظفر آباد سے 200 روپے کی Scom کی سم ضرور خرید لیں۔ کیونکہ نیلم ویلی میں باقی دنیا سے رابطے کا واحد یہی زریعہ ہوگی۔
2۔ اَٹھ مقام سے آگے پیٹرول نایاب ہے۔ بہتر ہے کہ مظفرآباد سے ٹینکی فل کرا کر نکلیں۔ (ہم نے اٹھمقام سے جو پیٹرول ڈلوایا وہ کوالٹی کے لحاظ سے ٹھیک نہیں تھا۔)
3۔ رات ٹھہرنے کے لیے شادرہ اور کیرن میں بہتریں جگہیں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی جہاں چاہیں ہوٹل لیکر رات رہ سکتے ہیں۔
4۔ نیلم ویلی میں مظفرآباد سے جاتے ہوئے جو اہم مقامات آتے ہیں۔ان میں سب سے پہلے “کنڈل شاہی” آتا ہے۔ اس کے بعد نیلم ویلی کا صدر مقام یعنی “اٹھ مقام” آتا ہے۔ یہاں تک سڑک بالکل ٹھیک ہے۔ اس سے آگے “کیرن” ہے۔ یہاں تک سڑک گزارہ کے قابل ہے۔
اس سے آگے “شاردہ” تک سڑک قدرے مشکل ہے۔ شاردہ سے آگے سوا گھنٹے کا سفر (20کلومیٹر) “کیل” تک کا ہے۔ جو گاڑی کے لیے نِرا عذاب ہے۔۔۔ لیکن مناظرِ فطرت کے لحاظ سے دلکش ترین ہے۔
5۔ اگر آپ باہمت ڈرائیور ہیں اور گاڑی کی حالت ٹھیک ہے تو آپ اپنی گاڑی پر باآسانی کیل تک جا سکتے ہیں۔ ٹیوٹا کی ہائی برڈ گاڑی “پری یس” بھی کیل میں موجود پائی گئیں۔ اس سے آگے جو صحیح معنوں میں شاہکار علاقہ ہے اور جو واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے وہ “تاؤ بٹ” ہے۔ کیل سے آگے صرف جیپ ہی تاؤ بٹ تک جا سکتی ہے۔
(کیل سے گلگت بلتستان ریجن کے لیے ایک راستہ نکالنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اگر کبھی یہ راستہ بن جائے تو سیاحتی نکتہ نظر سے نیلم ویلی کے لیے کسی “نہر سویز ” سے کم نہیں ہوگا۔)

سید مستقیم معین