یہ بی بی جیوندی کا مقبرہ اوچ شریف کی ان پانچ جگہوں میں سے ایک ہے جو ورلڈ ہیریٹیج کی لسٹ میں شامل ہیں۔ اس کا عکس اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل ہیری ٹیج وال پر موجود ہے۔ یہ مقبرہ 1494 میں خراسان کے حکمران محمد دلشاد نے تعمیر کروایا، یہ مقبرہ آرائشی نیلی، سبز اور روغنی ٹائلوں سے تیار کیا گیا ہے۔ اس پر کسی قسم کے رنگ یا پینٹ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ مزار کا آرکیٹیکٹ ہشت پہلو ہے۔ اس کی چھت میں اعلی قسم کی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔ اس کی تعلمیر میں اسلامی اور سرائیکی کلچر کے رنگ نمایاں ہیں۔

اوچ شریف کے بارے میں وہاں کے مقامی فرد کی روایت کے مطابق بارہویں صدی میں ہندو راجہ جے پال نے اپنی بیٹی اوچھا رانی کے نام پر اس شہر اوچ شریف کا نام رکھا، جسے اوچھ یا اوچ کہا جاتا تھا، اس سے پہلے اس شہر کا نام دیو گڑھ بھی تھا، اوچ کی تاریخ کے حوالے سے مورخين ميں تضاد ہوسکتا ہے ليکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ يہ تاريخی شہر بارہویں صدی میں دہلی جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا، اسلامی دانشوروں نے خطے کے دیگر علاقوں میں جاری خانہ جنگی سے نکل کر اوچ کو اپنا مسکن بنایا اور یوں مسلم دور حکومت میں یہ شہر جنوبی ایشیا میں اسلامی تعلیمات کا مرکز بنا، بہت سے صوفيائے کرام نے مسلمانوں کی تربیت اور تبلیغ اسلام کی خاطر بھی اوچ کو اپنا مرکز بنایا، پندرہویں اور سولہویں صدی میں یہاں لاتعداد مقبرے اور مزارات تعمیر ہوئے۔ ايک اندازے کے مطابق یہ دھرتی ایک لاکھ کے قریب بزرگان دین اور صوفیائے کرام کی ابدی آرام گاہ ہے۔

اوچ کو روحانی سلسلوں میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے، یہاں بخاری اور گیلانی سلسلوں کی اہم شخصیات کے مزار ہیں، يہ مقبرے اور مزارات ہر سال ہزاروں سياحوں اور پيروکاروں کیلئے باعث کشش ہيں۔

بی بی جیوندی، بہال الحلیم اور استاد نوریہ کے مقبرے، حضرت سيد جلال الدين سرخ پوش بخاری کا مزار اور مسجد صديوں سے دنیا بھر میں اوچ کی پہچان ہيں، فن تعمیر کے یہ دلکش نمونے سيلاب کی وجہ سے آدھے زمين بوس ہوگئے ليکن حالات کے تھپيڑوں کے باوجود نصف مہراب والی ان پُرشکوہ عمارتوں نے اپنی شان و شوکت نہيں کھوئی۔

مزارات کا شہر کہلانے والا اوچ جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور سے 75 کلو ميٹر دور ہے، اس کے دو اطراف میں اس وقت بھی دریا بہہ رہے ہیں جن کی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ ہی سر سبز و شاداب رہا ہے، 5 دریاؤں کا سنگم ہيڈ پنجند بھی اس کے بالکل قريب واقع ہے ليکن بنيادی طور پر شہر خوبصورت مقبروں اور مزارات کي وجہ سے مشہور ہے۔
مذہبی اور تاریخی سیاست کے حوالے سے اگر آپ یہاں آئیں گے تو امید ہے آپ کو سب اچھا لگے گا، باقی رہی مزارات کی عقیدت وہ آپ کے اپنے عقیدے سے ہے۔ بہرحال بزرگان دین تو ہمارے لیے لائق تعظیم ہی ہیں۔